حدیث نمبر: 9457
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ مَأْلَفَةٌ وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن وہ ہے جو مانوس ہوتا ہے اور جس سے مانوس ہوا جاتا ہے اوراس آدمی میں کوئی خیر و بھلائی نہیں جو نہ کسی سے مانوس ہوتا ہے اور نہ کوئی اس سے مانوس ہوتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ انس کا مومن کے ساتھ گہرا تعلق ہے، لوگ اس سے مانوس ہوتے ہیں اور وہ لوگوں سے مانوس ہوتا ہے، اس کی سب سے بہترین مثال یہ ہے کہ اگر مسجد کا امام خوش اخلاق ہو، عالم باعمل ہو، بلا امتیاز نمازیوں کی قدر کرتا ہو، لوگوں کے بچوں کی تعلیم کی فکر رکھتا ہو اور حرص و بخل سے پاک ہو کر اپنی غیرت و حمیت کو سمجھنے والا اور اس کو برقرار رکھنے والا ہو تو ایسے فرد کو لوگوں کی طرف سے جو مودت و محبت اور احترام و اکرام نصیب ہوتا ہے، عام آدمی کا دل و دماغ اس کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکتا۔
یہی معاملہ دوسرے اساتذہ اور ڈاکٹر حضرات کا ہے، لیکن سب سے پہلے ایمان و اسلام کے تقاضوں کو پورا کرنا فرض ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9457
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «متن الحديث حسن، أخرجه الطبراني في الكبير : 5744، والبيھقي في الشعب : 8210 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22840 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23228»