حدیث نمبر: 9453
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِقُّ الْعَبْدُ حَقَّ صَرِيحِ الْإِيمَانِ حَتَّى يُحِبَّ لِلَّهِ وَيُبْغِضَ لِلَّهِ فَإِذَا أَحَبَّ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَأَبْغَضَ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَدِ اسْتَحَقَّ الْوَلَاءَ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى وَإِنَّ أَوْلِيَائِي مِنْ عِبَادِي وَأَحِبَّائِي مِنْ خَلْقِي الَّذِينَ يُذْكَرُونَ بِذِكْرِي وَأُذْكَرُ بِذِكْرِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمرو بن جموع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ اس وقت تک صریح ایمان کا حق ادا نہیں کر سکتا، جب تک اللہ تعالیٰ کے لیے محبت نہیں کرتا اور اُسی کے لیے بغض نہیں رکھتا، پس جب وہ اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرتا ہے اور اُسی کے لیے بغض رکھتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے محبت اور دوستی کا مستحق قرار پاتا ہے اور بیشک میرے اولیاء میرے بندوں میں سے ہوتے ہیں اور میری مخلوق میں سے وہ لوگ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوتے ہیں، جن کو میرے ذکر کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے اور مجھے ان کے ذکر کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9453
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد، عبدِ الله بن الوليد، ولانقطاعه، ابو منصور مولي الانصار لم يلق عمرو بن الجموح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15549 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15634»