حدیث نمبر: 9452
وَعَنْهُ أَيْضًا يَرْفَعُهُ قَالَ لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى رَأْسِ ذَلِكَ أَوْ مَلَاكِ ذَلِكَ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ (وَفِي رِوَايَةٍ) أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گے، جب تک ایمان نہیں لاؤ گے اور اس وقت تک ایمان نہیں لا سکو گے، جب تک ایک دوسرے سے محبت نہیں کرو گے، کیا میں ایسی چیز کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کر دوں، جو اس محبت کی جڑ اور جوہر ہے؟ آپس میں سلام کو عام کر دو۔ ایک روایت میں ہے: کیا میں ایسی چیز کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کر دوں کہ جب تم اس کو کرو گے تو آپس میں محبت کرنے لگ جاؤ گے؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔

وضاحت:
فوائد: … سلام کے ذریعے باہمی اور شرعی محبت اور دوسروں کے لیے دل میں وسعت پیدا ہوتی ہے، اس لیے بھرپور انداز میں اس نبوی نسخے کا استعمال ہونا چاہیے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ سلام کہنے میں بڑی سستی کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9452
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 54 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9084 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9073»