الفتح الربانی
مسائل المحبة والصحبة— محبت اور صحبت کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الْحُبِّ فِي اللَّهِ وَالْبَغْضِ فِي اللَّهِ وَالْحَقِّ عَلَى ذَلِكَ باب: اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرنے اور بغض رکھنے کی ترغیب اور ایساکرنے پر برانگیختہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 9449
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روحیں اکٹھے کیے ہوئے لشکر ہیں، جن کی وہاں واقفیت ہو گئی، وہ ایک دوسرے سے مانوس ہو جاتی ہیں اور جن میں وہاں اجنبیت اور نا واقفیت ہو گئی، وہ مانوس نہیں ہوتیں۔
وضاحت:
فوائد: … انسانی مزاجوں میں حیران کن فرق پایا جاتا ہے، ایک آدمی دوسرے پر جان و مال قربان کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے، جبکہ دوسرا اس سے بول کر بھی راضی نہیں ہوتا، کسی کو اپنے بیوی بچے اس قدر پیارے لگتے ہیں کہ وہ سارا وقت ان کے اندر گزارنا چاہتا ہوتا ہے، جبکہ ایسے لوگ بھی ہیں، جن کا سارا وقت گھر سے باہر دوستوں یاروں میں گزر جاتا ہے، غرضیکہ ہر آدمی کا میلان اور رجحان دوسرے سے مختلف ہے اور تقریباً ہر کوئی دوسرے کے مزاج پر نقد بھی کرتا ہے۔ دراصل عالَمِ اراوح میں اتفاق و اختلاف اور الفت و نفرت کی صورتیں اور شکلیں پیدا ہو چکی ہوتی ہیں، دنیوی زندگی تو صرف ان کا مظہر ثابت ہوتی ہے۔