حدیث نمبر: 9445
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ أَذَلَّ لِي وَلِيًّا (وَفِي رِوَايَةٍ مَنْ آذَى لِي وَلِيًّا) فَقَدِ اسْتَحَلَّ مُحَارَبَتِي وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِمِثْلِ أَدَاءِ الْفَرَائِضِ وَمَا يَزَالُ الْعَبْدُ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ إِنْ سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ وَإِنْ دَعَانِي أَجَبْتُهُ مَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ وَفَاتِهِ لِأَنَّهُ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں؛ جس نے میرے دوست کی توہین کی، ایک روایت میں ہے: جس نے میرے دوست کو تکلیف دی، اس نے میرے ساتھ لڑنے کو حلال سمجھ لیا ہے، اور فرائض کی ادائیگی سے ہی میرا بندہ میرا قرب حاصل کر سکتا ہے، لیکن بندہ نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں، پھر جب وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اس کو عطا کرتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کو جواب دیتا ہوں اور مجھے جتنا تردّد مؤمن کی وفات پر ہوتا ہے، اتنا کسی اور کام پر نہیں ہوتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اس کے غم کو پسند نہیں کرتا۔

وضاحت:
فوائد: … ولی اس پرہیز گار مومن کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کی پیروی کرتا ہے اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اَلَا ٓ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَا خَوْف’‘ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْایَتَّقُوْنَ لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ } … خبردار! بیشک اللہ تعالیٰ کے اولیائ، نہ ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمزدہ ہوں گے، وہ لوگ جو ایمان لائے اور تقوی اختیار کرتے تھے، دنیوی اور اخروی دونوں زندگیوں میں ان کے لیے خوشخبری ہے۔ (سورۂ یونس: ۶۴)
اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا اکرام ضروری ہے، ان کی توہین کرنا اللہ تعالیٰ سے لڑنے کے مترادف ہے۔
انسان مرنا نہیں چاہتا، اللہ کی حکمت مصلحت یہ ہے لوگ مرتے ہیں اور نئے آتے رہیں۔ اللہ نے اس کیفیت کو تردد سے تعبیر کیا۔ اس اظہار میں اللہ کا بندے کے ساتھ لطف و کرم ہے۔ پھر اللہ کی مصلحت و حکمت غالب آتی ہے اور اللہ بندے کو بعض عوارض میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جس سے اس کی موت کے لیے کراہت ختم ہو جاتی ہے تو اللہ اسے فوت کر لیتا ہے۔ یا فرشتوں کا تردد مراد ہے جیسے موسیٰ علیہ السلام کی طرف ملک الموت کو بھیجنے والا واقعہ ہے۔ (مزید دیکھیں: فتح الباری جلد:۱، ص: ۳۴۵ اور مترجم سلسلہ صحیحہ جلد: ۱، ص: ۱۶۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9445
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، وللحديث شاھد أخرجه البخاري: 6502 عن ابي ھريرة رضي الله عنه ، أخرجه البزار: 3627، والطبراني في الاوسط : 9348 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26193 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26723»