الفتح الربانی
مسائل المحبة والصحبة— محبت اور صحبت کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي مَحَبَّةِ الصَّالِحِينَ وَصُحْبَتِهِمْ وَالْجُلُوسِ مَعَهُمْ وَزَيَارَتِهِمْ وَإِكْرَامِهِمْ وَعَدْمٍ إِبْدَائِهِمْ باب: نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ أَذَلَّ لِي وَلِيًّا (وَفِي رِوَايَةٍ مَنْ آذَى لِي وَلِيًّا) فَقَدِ اسْتَحَلَّ مُحَارَبَتِي وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِمِثْلِ أَدَاءِ الْفَرَائِضِ وَمَا يَزَالُ الْعَبْدُ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ إِنْ سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ وَإِنْ دَعَانِي أَجَبْتُهُ مَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ وَفَاتِهِ لِأَنَّهُ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں؛ جس نے میرے دوست کی توہین کی، ایک روایت میں ہے: جس نے میرے دوست کو تکلیف دی، اس نے میرے ساتھ لڑنے کو حلال سمجھ لیا ہے، اور فرائض کی ادائیگی سے ہی میرا بندہ میرا قرب حاصل کر سکتا ہے، لیکن بندہ نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں، پھر جب وہ مجھ سے سوال کرتا ہے تو میں اس کو عطا کرتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کو جواب دیتا ہوں اور مجھے جتنا تردّد مؤمن کی وفات پر ہوتا ہے، اتنا کسی اور کام پر نہیں ہوتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اس کے غم کو پسند نہیں کرتا۔
اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا اکرام ضروری ہے، ان کی توہین کرنا اللہ تعالیٰ سے لڑنے کے مترادف ہے۔
انسان مرنا نہیں چاہتا، اللہ کی حکمت مصلحت یہ ہے لوگ مرتے ہیں اور نئے آتے رہیں۔ اللہ نے اس کیفیت کو تردد سے تعبیر کیا۔ اس اظہار میں اللہ کا بندے کے ساتھ لطف و کرم ہے۔ پھر اللہ کی مصلحت و حکمت غالب آتی ہے اور اللہ بندے کو بعض عوارض میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جس سے اس کی موت کے لیے کراہت ختم ہو جاتی ہے تو اللہ اسے فوت کر لیتا ہے۔ یا فرشتوں کا تردد مراد ہے جیسے موسیٰ علیہ السلام کی طرف ملک الموت کو بھیجنے والا واقعہ ہے۔ (مزید دیکھیں: فتح الباری جلد:۱، ص: ۳۴۵ اور مترجم سلسلہ صحیحہ جلد: ۱، ص: ۱۶۵)