الفتح الربانی
مسائل المحبة والصحبة— محبت اور صحبت کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي مَحَبَّةِ الصَّالِحِينَ وَصُحْبَتِهِمْ وَالْجُلُوسِ مَعَهُمْ وَزَيَارَتِهِمْ وَإِكْرَامِهِمْ وَعَدْمٍ إِبْدَائِهِمْ باب: نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْنَا لَهُ غُسْلًا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ أَتَيْنَاهُ بِمِلْحَفَةٍ وَرْسِيَّةٍ فَاشْتَمَلَ بِهَا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْوَرْسِ عَلَى عُكَنِهِ ثُمَّ أَتَيْنَاهُ بِحِمَارٍ لِيَرْكَبَ فَقَالَ صَاحِبُ الْحِمَارِ أَحَقُّ بِصَدْرِ حِمَارِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْحِمَارُ لَكَ۔ سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غسل کا پانی رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل کیا، پھر ہم زرد سرخی مائل چادر لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اپنے جسم پر لپیٹ لیا، گویا کہ اب بھی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیٹ کی سلوٹوں پر ورس بوٹی کے نشان دیکھ رہا ہوں، پھر ہم سواری کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک گدھا لائے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گدھے کا مالک اس کے اگلے حصے پر سوار ہونے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! پس یہ گدھا ہے ہی آپ کے لیے۔
(ابوداود: ۲۲۰۸، ترمذی: ۲۷۷۳)
ایک طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تواضع اور حسن اخلاق کا مظاہرہ کیا، دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اکرام کا حق ادا کر دیا۔