الفتح الربانی
مسائل المحبة والصحبة— محبت اور صحبت کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي مَحَبَّةِ الصَّالِحِينَ وَصُحْبَتِهِمْ وَالْجُلُوسِ مَعَهُمْ وَزَيَارَتِهِمْ وَإِكْرَامِهِمْ وَعَدْمٍ إِبْدَائِهِمْ باب: نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9438
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَصْحَبْ إِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو صرف مؤمن کا ساتھی بن اور تیرا کھانا نہ کھائے، مگر متقی آدمی۔
وضاحت:
فوائد: … مسلمان کی کوشش ہونی چاہیے کہ صاحب ِ ایمان لوگ اس کے دوست ہوں اور پرہیزگار لوگ اس کے مہمان بنیں،یہ بات علیحدہ ہے کہ ہر مہمان کی میزبانی کرنی چاہیے۔