الفتح الربانی
مسائل المحبة والصحبة— محبت اور صحبت کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي مَحَبَّةِ الصَّالِحِينَ وَصُحْبَتِهِمْ وَالْجُلُوسِ مَعَهُمْ وَزَيَارَتِهِمْ وَإِكْرَامِهِمْ وَعَدْمٍ إِبْدَائِهِمْ باب: نیکوکاروں سے محبت کرنے، ان کی صحبت اختیار کرنے، ان کے ساتھ بیٹھنے، ان کی زیارت کرنے اور ان کی عزت کرنے اور ان کو تکلیف نہ دینے کی ترغیب کا بیان
عَنْ ثَابِتِ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُحِبُّ الرَّجُلَ وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَعْمَلَ كَعَمَلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ فَقَالَ أَنَسٌ فَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ قَطُّ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْإِسْلَامَ مَا فَرِحُوا بِهَذَا مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنَسٌ فَنَحْنُ نُحِبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَعْمَلَ كَعَمَلِهِ فَإِذَا كُنَّا مَعَهُ فَحَسْبُنَا۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ایک شخص کسی آدمی سے محبت تو کرتا ہے، لیکن اس کے عمل جیسے عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اسی کے ساتھ ہو گا، جس کے ساتھ محبت کرتا ہو گا۔ پس میں نے صحابہ کرام کو اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا کہ وہ کسی چیز کی وجہ سے اتنے خوش ہوئے ہوں، جتنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے خوش ہوئے، ما سوائے اسلام کے۔ پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: پس ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل جتنے عمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، پس جب ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ مل جائے گا تو وہی کافی ہو گا۔