حدیث نمبر: 9435
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ صَبِيٌّ عَلَى ظَهْرِ الطَّرِيقِ فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا رَأَتْ أُمُّ الصَّبِيِّ الْقَوْمَ خَشِيَتْ أَنْ يُوطَأَ ابْنُهَا فَسَعَتْ وَحَمَلَتْهُ وَقَالَتْ ابْنِي ابْنِي قَالَ فَقَالَ الْقَوْمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُلْقِيَ ابْنَهَا فِي النَّارِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا وَلَا يُلْقِي اللَّهُ حَبِيبَهُ فِي النَّارِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بچہ راستے پر پڑا تھا، وہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزر ہوا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ صحابہ بھی تھے، جب اس بچے کی ماں نے لوگوں کو دیکھا تو اسے یہ ڈر محسوس ہونے لگا کہ بچہ روند دیا جائے گا، پس وہ یہ کہتے ہوئے دوڑی کہ میرا بیٹا، میرابیٹا اور پھر اس کو اٹھا لیا، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ماں اپنے بچے کو آگ میں تو نہیں ڈالے گی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ عورت اپنے بیٹے کو آگ میں نہیں ڈالے گی اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے پیارے کو آگ میں نہیں ڈالے گا۔

وضاحت:
فوائد: … کوئی اللہ تعالیٰ سے محبت کر کے تو دیکھے، اس کی طرف سے جوابی کاروائی محبت کرنے والے کی سوچ سے بڑھ کر ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9435
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البزار: 3476، وابويعلي: 3747، والحاكم: 1/ 58، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13467 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13501»