حدیث نمبر: 9433
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ إِذَا رَضِيَ عَنِ الْعَبْدِ أَثْنَى عَلَيْهِ سَبْعَةَ أَصْنَافٍ مِنَ الْخَيْرِ لَمْ يَعْمَلْهُ وَإِذَا سَخِطَ عَلَى الْعَبْدِ أَثْنَى عَلَيْهِ سَبْعَةَ أَصْنَافٍ مِنَ الشَّرِّ لَمْ يَعْمَلْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے راضی ہوتا ہے تو خیر کی ایسی سات اقسام کی وجہ سے اس کی تعریف کرتا ہے، جن پر ابھی تک اس نے عمل نہیں کیا ہوتا، اسی طرح جب وہ کسی بندے سے ناراض ہو جاتا ہے تو شرّ کی ایسی سات اقسام کی وجہ سے اس کی مذمت کرتا ہے، جن کا ابھی تک اس نے ارتکاب نہیں کیا ہوتا۔

وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ اس کو سات قسم کی نیکیاں کرنے کی توفیق دے گا، لیکن ان کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے اس کا تذکرۂ خیر لوگوں میں عام کر دے گا، اس کے برعکس معاملہ اس شخص کا ہے، جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جاتا ہے۔ دقاق کہتے ہیں: بشر حافی لوگوں کے ایک مجمع کے پاس سے گزرا، انھوں نے اس کو دیکھ کر کہا: یہ آدمی ساری رات قیام کرتا ہے اور تین دنوں میں ایک بار افطاری کرتا ہے، بشر حافی نے یہ بات سن کر رونا شروع کر دیا اور کہا: مجھے تو ایسی ایک رات بھییاد نہیں ہے، جس کا میں نے پورا قیام کیا ہو، نیز میں جب بھی روزہ رکھتا ہوں، اسی شام کو افطار بھی کر لیتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ فضل و کرم کرتے ہوئے لوگوں کے دلوں میں بندے کے عمل سے زیادہ عمل کا خیال ڈال دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں لوگوں کی معائب و نقائص پر پردہ تو ڈالا جا سکتا ہے، لیکن وہ اپنے بندوں کی نیکیوں کو مخفی نہیں رہنے دیتا، اگرچہ ان کو خلوت میں سر انجام دیا گیا ہو، جب کسی بندۂ خدا کے سوانح عمری قلم بند کیے جاتے ہیں تو لکھاری اس کی زندگی کے تمام گوشے منظرِ عام پر لے آتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9433
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف دراج في روايته عن ابي الھيثم، أخرجه ابويعلي: 1331، وابن حبان: 368 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11338 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11358»