الفتح الربانی
مسائل المحبة والصحبة— محبت اور صحبت کے مسائل
بَابُ حُبِّ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ لِعِبَادِهِ الصَّالِحِينَ باب: نیک بندوں سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا قَالَ لِجِبْرِيلَ إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ فَيَقُولُ جِبْرِيلُ لِأَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ رَبَّكُمْ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ قَالَ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ قَالَ وَيُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ قَالَ وَإِذَا أَبْغَضَ فَمِثْلُ ذَلِكَ۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام سے کہتا ہے: بیشک میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہوں، لہٰذا تو بھی اس سے محبت کر، پھر جبریل علیہ السلام اہل آسمان سے کہتے ہیں: بیشک تمہارا ربّ فلاں آدمی سے محبت کرتا ہے، لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، پس آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر زمین میں بھی وہ آدمی مقبول ہو جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جس آدمی سے بغض رکھتا ہے، اس کے ساتھ اسی قسم کا معاملہ پیش آتا ہے ۔