الفتح الربانی
مسائل المحبة والصحبة— محبت اور صحبت کے مسائل
بَابُ وُجُوبِ مَحَبَّةِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَ التَّرْغِيْبِ فِي ذلِكَ باب: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَا فَرِحْنَا بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحْنَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ)) قَالَ فَأَنَا أُحِبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَأَنَا أَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ لِحُبِّي إِيَّاهُمْ وَإِنْ كُنْتُ لَا أَعْمَلُ بِعَمَلِهِمْ۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں جو خوشی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد سے ہوئی کہ بیشک تو اس کے ساتھ ہو گا، جس کے ساتھ تجھے محبت ہے قبولیت ِ اسلام کے بعد اتنی خوشی کسی چیز سے نہیں ہوئی تھی، پس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے محبت کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ میں اس محبت کی وجہ سے ان کے ساتھ ہوں گا، اگرچہ میرے عمل ان کے اعمال جیسے نہیں ہیں۔