حدیث نمبر: 9430
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَا فَرِحْنَا بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحْنَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ)) قَالَ فَأَنَا أُحِبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَأَنَا أَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ لِحُبِّي إِيَّاهُمْ وَإِنْ كُنْتُ لَا أَعْمَلُ بِعَمَلِهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں جو خوشی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد سے ہوئی کہ بیشک تو اس کے ساتھ ہو گا، جس کے ساتھ تجھے محبت ہے قبولیت ِ اسلام کے بعد اتنی خوشی کسی چیز سے نہیں ہوئی تھی، پس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے محبت کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ میں اس محبت کی وجہ سے ان کے ساتھ ہوں گا، اگرچہ میرے عمل ان کے اعمال جیسے نہیں ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … غور کریں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ یہ بات کہہ رہے ہیں کہ ان کے عمل، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلے دو خلفاء کے اعمال کی طرح کے نہیں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق نیکیاں کرنے اور برائیوں سے بچنے کی کوشش کرے اور اپنے دل میں نیک لوگوں کی محبت رکھے، بالخصوص نبی کریم اور صحابہ کرام۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9430
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13404»