حدیث نمبر: 9429
عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيءَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَيَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى قِيَامُ السَّاعَةِ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ ((أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ)) قَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ((وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا)) قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ عَمَلٍ لَا صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ)) وَفِي رِوَايَةٍ ((فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكَ مَا أَحْبَبْتَ)) قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَا رَأَيْتُ الْمُسْلِمِينَ فَرِحُوا بَعْدَ الْإِسْلَامِ بِشَيْءٍ مَا فَرِحُوا بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم اس بات کو پسند کرتے تھے کہ کوئی دیہاتی آدمی آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرے، پس ایک بدّو آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ اتنے میں نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز شروع کر دی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اس نے کہا: جی میں ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: اور تو نے اس کے لیے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا: میں نے اس کے لیے زیادہ عمل تو نہیں کیے، نہ زیادہ نماز ہے اور نہ زیادہ روزے ہیں، البتہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی اس کے ساتھ ہو گا، جس سے وہ محبت کرے گا۔ ایک روایت میں: پس بیشک تو اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے تو محبت کرتا ہے اور تیرے لیے وہی کچھ ہے، جو تو پسند کرتا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نہیں دیکھا کہ مسلمان قبولیت ِ اسلام کے بعد اتنے زیادہ خوش ہوئے ہوں، جتنے اس دن ہوئے تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل المحبة والصحبة / حدیث: 9429
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 7153، 6171، ومسلم: 2639 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12013 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12036»