الفتح الربانی
مسائل المحبة والصحبة— محبت اور صحبت کے مسائل
بَابُ وُجُوبِ مَحَبَّةِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَ التَّرْغِيْبِ فِي ذلِكَ باب: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((إِنَّ الْعَبْدَ لَيَلْتَمِسُ مَرْضَاةَ اللَّهِ وَلَا يَزَالُ بِذَلِكَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِجِبْرِيلَ إِنَّ فُلَانًا عَبْدِي يَلْتَمِسُ أَنْ يُرْضِيَنِي أَلَا وَإِنَّ رَحْمَتِي عَلَيْهِ فَيَقُولُ جِبْرِيلُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى فُلَانٍ وَيَقُولُهَا حَمَلَةُ الْعَرْشِ وَيَقُولُهَا مَنْ حَوْلَهُمْ حَتَّى يَقُولُهَا أَهْلُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ ثُمَّ تَهْبِطُ لَهُ إِلَى الْأَرْضِ))۔ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بندہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی کو تلاش کرتا ہے اور اس کے لیے لگا رہتا ہے، یہاں تک اللہ تعالیٰ جبریل علیہ السلام سے کہتا ہے: بیشک میرا فلاں بندہ مجھے راضی کرنے کے درپے تھا، خبردار! اب اس پر میری رحمت ہو چکی ہے، جبریل علیہ السلام کہتے ہیں: فلاں آدمی پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو چکی ہے، پھر حاملین عرش اس جملے کو دوہراتے ہیں، پھر ان کے ارد گرد والے فرشتے کہتے ہیں،یہاں تک کہ ساتوں آسمانوں والے یہی کلمہ کہتے ہیں، پھر اسی بیان کو زمین پر اتار دیا جاتا ہے۔
اس حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ عمل میں اخلاص ہونا چاہیے اور عمل کا مقصد ریاکاری اور نمود و نمائش نہیں ہونا چاہیے، اگر دوسرا مقصد ہوا تو ممکن ہے کہ عارضی طور پر مقبولیت مل جائے، وگرنہ انجام میں مذمت کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا۔