الفتح الربانی
مسائل المحبة والصحبة— محبت اور صحبت کے مسائل
بَابُ وُجُوبِ مَحَبَّةِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَ التَّرْغِيْبِ فِي ذلِكَ باب: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 9427
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((أَشَدُّ أُمَّتِي لِي حُبًّا قَوْمٌ يَكُونُونَ أَوْ يَخْرُجُونَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ أَعْطَى أَهْلَهُ وَمَالَهُ وَأَنَّهُ رَآنِي))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے میری امت کے وہ لوگ ہیں، جو میرے بعد آئیں گے اور یہ پسند کریں گے کہ اپنے اہل اور مال کو خرچ کر کے میرا دیدار کر لیں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ نیک آرزو ہے، کسی عمل کا نام نہیں ہے، ہمیں چاہیے کہ اپنے اندر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتنی محبت پیدا کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار کرنے کاشوق پیدا ہو جائے۔