الفتح الربانی
مسائل المحبة والصحبة— محبت اور صحبت کے مسائل
بَابُ وُجُوبِ مَحَبَّةِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَ التَّرْغِيْبِ فِي ذلِكَ باب: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَيْرُوزٍ الدَّيْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُمْ أَسْلَمُوا وَكَانَ فِيمَنْ أَسْلَمَ فَبَعَثُوا وَفْدَهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعَتِهِمْ وَإِسْلَامِهِمْ فَقَبِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ مِنْهُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ مَنْ قَدْ عَرَفْتَ جِئْنَا مِنْ حَيْثُ قَدْ عَلِمْتَ وَأَسْلَمْنَا فَمَنْ وَلِيُّنَا قَالَ ((اللَّهُ وَرَسُولُهُ)) قَالُوا حَسْبُنَا رَضِينَا۔ سیدنا فیروز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگ اسلام لائے اور وہ بھی ان لوگوں میں شامل تھے، پس انھوں نے اپنی بیعت اور اسلام کے ساتھ اپنے وفد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو قبول فرمایا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ جانتے ہی ہیں کہ ہم کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں، ہم نے اسلام تو قبول کر لیا، اب ہمارا ولی کون ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول۔ انھوں نے کہا: ہمیں یہ کافی ہیں اور ہم اس پر راضی ہیں۔