الفتح الربانی
مسائل المحبة والصحبة— محبت اور صحبت کے مسائل
بَابُ وُجُوبِ مَحَبَّةِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَ التَّرْغِيْبِ فِي ذلِكَ باب: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرنے کے وجوب اور اس کی ترغیب دلانے کا بیان
عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ وَاللَّهِ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا نَفْسِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ عِنْدَهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ نَفْسِهِ)) فَقَالَ عُمَرُ فَلَأَنْتَ الْآنَ وَاللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((الْآنَ يَا عُمَرُ))۔ زہرہ کے دادے سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ہر چیز کی بہ نسبت زیادہ محبوب ہیں، ما سوائے اپنی جان کے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کوئی ایک اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک مجھے اپنے نفس سے زیادہ محبوب نہیں سمجھے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اب آپ ہی مجھے اپنے نفس سے بھی زیادہ محبوب ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! اب ٹھیک ہے۔