حدیث نمبر: 9422
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ {إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ} اللَّهُمَّ أَجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا أَجَرَهُ اللَّهُ فِي مُصِيبَتِهِ وَأَخْلَفَ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا)) قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ مَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ ثُمَّ عَزَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِي فَقُلْتُهَا اللَّهُمَّ أَجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا قَالَتْ فَتَزَوَّجْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ کسی مصیبت میں مبتلا ہونے کے بعد یہ دعا پڑھتا ہے: {اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ} اَللّٰھُمَّ أْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِنْھَا۔ (بیشک ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور بیشک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر اور بہترین متبادل عطا فرما)تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کی مصیبت میں اجر دیتا ہے اور اس کو بہترین متبادل عطا کرتا ہے۔ پس جب میرے خاوند سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے اور میں نے کہا: صحابی ٔ رسول ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے، لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے طاقت اور برداشت عطا کی اور میں نے یہ دعا کرتے ہوئے کہا: اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر دے اور مجھے اس کا بہترین متبادل عطا فرما، پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کر لی۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ مبتلائے مصیبت کو یہ دعا پڑھنی چاہیے: اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، اَللّٰھُمَّ أْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِنْھَا۔ جو احادیث ِ مبارکہ پہلے گزر چکی ہیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ اس دعا کے شروع میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کا اضافہ کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9422
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 918 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26635 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27170»