حدیث نمبر: 9417
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقَ حَارِثَةُ بْنُ عَمَّتِي يَوْمَ بَدْرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا نَظَّارًا مَا انْطَلَقَ لِلْقِتَالِ قَالَ فَأَصَابَهُ سَهْمٌ فَقَتَلَهُ قَالَ فَجَاءَتْ أُمُّهُ عَمَّتِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنِي حَارِثَةُ إِنْ يَكُ فِي الْجَنَّةِ أَصْبِرُ وَأَحْتَسِبُ وَإِلَّا فَسَيَرَى اللَّهُ مَا أَصْنَعُ قَالَ ((يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ وَإِنَّ حَارِثَةَ فِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میری پھوپھی کا بیٹا سیدنا حارثہ رضی اللہ عنہ بدر والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلا، یہ لڑکا لڑائی دیکھنے کے لیے گیا تھا، لڑنے کے لیے نہیں گیا تھا، لیکن اچانک اس کو تیر لگا اور اس کو قتل کر دیا، پس میری پھوپھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرا بیٹا حارثہ رضی اللہ عنہ ، اگر وہ جنت میں ہے تو میں ثواب کی نیت سے صبر کرتی ہوں، وگرنہ اللہ تعالیٰ دیکھے گا کہ میں کیا کرتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ام حارثہ! جنتیں تو بہت زیادہ ہیں اور بیشک حارثہ تو فردوسِ اعلی میں ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس خاتون کا مقصد رونا اور نوحہ کرنا تھا، جیسا کہ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے: اِجْتَھَدْتُّ عَلَیْہِ فِیْ الْبُکَائِ۔ … میں اس پر رونے میں کوشش کروں گی۔ امام خطابی نے کہا: چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کو اس کے دعوے پر برقرار رکھا، اس لیے اس حدیث سے اس طرح کے رونے کا جواز ملتا ہے، لیکن حافظ ابن حجر نے ان کا تعاقب کیا اور کہا کہ یہ واقعہ نوحہ کی حرمت سے پہلے کا ہے، کیونکہ غزوۂ احد کے بعد نوحہ کو حرام قرار دیا گیا تھا، جبکہ یہ واقعہ تو غزوۂ بدر کے بعد کا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9417
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 2598 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13250 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13283»