حدیث نمبر: 9416
عَنْ حَسَّانَ بْنِ كُرَيْبٍ أَنَّ غُلَامًا مِنْهُمْ تُوُفِّيَ فَوَجَدَهُ عَلَيْهِ أَبَوَاهُ أَشَدَّ الْوَجْدِ فَقَالَ حَوْشَبُ صَاحِبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مِثْلِ ابْنِكَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ كَانَ لَهُ ابْنٌ قَدْ أَدَّبَهُ وَدَبَّ وَكَانَ يَأْتِي مَعَ أَبِيهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ إِنَّ ابْنَهُ تُوُفِّيَ فَوَجَدَهُ عَلَيْهِ أَبُوهُ قَرِيبًا مِنْ سِتَّةِ أَيَّامٍ لَا يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا أَرَى فُلَانًا)) قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَهُ تُوُفِّيَ فَوَجَدَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((يَا فُلَانُ أَتُحِبُّ لَوْ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ الْآنَ كَانَ شَطِيَ الصِّبْيَانِ نَشَاطًا أَتُحِبُّ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ أَجْرَى الْغِلْمَانِ جَرَاءَةً أَتُحِبُّ أَنَّ ابْنَكَ عِنْدَكَ كَهْلًا كَأَفْضَلِ الْكُهُولِ أَوْ يُقَالَ لَكَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ ثَوَابَ مَا أُخِذَ مِنْكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ حسان بن کریب کہتے ہیں: ہم میں سے ایک بچہ فوت ہو گیا، اس کے والدین کو بہت زیادہ صدمہ ہوا، صحابی ٔ رسول سیدنا حوشب رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں تم لوگوں کو وہ بات بیان کروں، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تیرے اس بیٹے کی طرح کے بیٹے کے حق میں بیان کرتے ہوئے سنی تھی، اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک صحابی کا بیٹا تھا، اس نے اس کو ادب سکھایا تھا، یا ابھی تک وہ زمین پر ہاتھ پیر مار کر گھسٹتا تھا، وہ بچہ اپنے باپ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھی آتا تھا، پھر ہوا یوں کہ وہ بچہ فوت ہو گیا اور اس کے باپ نے اس کی وجہ سے اتنا غم محسوس کیا کہ وہ چھ دن تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھی نہیں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن پوچھا: کیا وجہ ہے کہ فلاں آدمی نظر نہیں آتا؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا بچہ فوت ہو گیا ہے اور وہ اس کی وجہ سے پریشان ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں آدمی! اچھا بتا کہ کیا تو یہ چاہتا ہے کہ اب تیرا بچہ تیرے پاس ہوتا اور بچوں میں سب سے زیادہ پھرتیلا ہوتا؟ یا تو یہ چاہتا ہے کہ تیر ا بچہ سب بچوں سے زیادہ جرأت والا ہوتا؟ یا تو یہ پسند کرتا ہے کہ تیرا بچہ تیس سے پچاس برس کا بھرپور نوجوان ہو؟ یا تو یہ چاہتا ہے کہ کل قیامت والے دن تجھے کہا جائے: جو بچہ تجھ سے لے لیا گیا تھا، اس کے ثواب میں جنت میں داخل ہو جا؟

حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9416
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15843 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15937»