الفتح الربانی
— صبر
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَوْتِ الْأَوْلَادِ وثَوَابِ ذَلِكَ باب: بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتُحِبُّهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أُحِبُّهُ فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا فَعَلَ ابْنُ فُلَانٍ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَبِيهِ أَمَا تُحِبُّ أَنْ لَا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ يَنْتَظِرُكَ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَهُ خَاصَّةً أَوْ لِكُلِّنَا قَالَ بَلْ لِكُلِّكُمْ۔ سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا تھا، جبکہ اس کا بچہ اس کے ساتھ ہوتا تھا، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو اس سے محبت کرتا ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ آپ سے اس طرح محبت کرے، جیسے میں اس سے کرتا ہوں، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو گم پایا اور پوچھا: فلاں کے بیٹے کا کیا بنا؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو فوت ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے باپ سے کہا: کیا تو یہ بات پسند نہیں کرتا کہ تو جنت کے جس دروازے پر آئے، اسی پر اپنے بچے کو انتظار کرتے ہوئے پائے؟ ایک ا ٓدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ اس شخص کے لیے خاص ہے، یا ہم سب کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں،یہ تو تم سب کے لیے ہے۔