حدیث نمبر: 9415
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتُحِبُّهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أُحِبُّهُ فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا فَعَلَ ابْنُ فُلَانٍ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَبِيهِ أَمَا تُحِبُّ أَنْ لَا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ يَنْتَظِرُكَ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَهُ خَاصَّةً أَوْ لِكُلِّنَا قَالَ بَلْ لِكُلِّكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا قرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا تھا، جبکہ اس کا بچہ اس کے ساتھ ہوتا تھا، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو اس سے محبت کرتا ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ آپ سے اس طرح محبت کرے، جیسے میں اس سے کرتا ہوں، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو گم پایا اور پوچھا: فلاں کے بیٹے کا کیا بنا؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو فوت ہو گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے باپ سے کہا: کیا تو یہ بات پسند نہیں کرتا کہ تو جنت کے جس دروازے پر آئے، اسی پر اپنے بچے کو انتظار کرتے ہوئے پائے؟ ایک ا ٓدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ اس شخص کے لیے خاص ہے، یا ہم سب کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں،یہ تو تم سب کے لیے ہے۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلے سوال کے جواب میں اس آدمی نے جو کچھ کہا، اس سے اس کا مقصود محبت کی شدت کو بیان کرنا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9415
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 4/ 22، 23، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20636»