الفتح الربانی
— صبر
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَوْتِ الْأَوْلَادِ وثَوَابِ ذَلِكَ باب: بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
عَنْ أَبِي حَسَّانَ قَالَ تُوُفِّيَ ابْنَانِ لِي فَقُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا تُحَدِّثُنَاهُ يُطَيِّبُ أَنْفُسَنَا عَنْ مَوْتَانَا قَالَ نَعَمْ صِغَارُهُمْ دَعَامِيصُ الْجَنَّةِ يَلْقَى أَحَدُهُمْ أَبَاهُ أَوْ قَالَ أَبَوَيْهِ فَيَأْخُذُ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ أَوْ يَدِهِ كَمَا آخُذُ بِصَنَفَةِ ثَوْبِكَ هَذَا فَلَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يُدْخِلَهُ اللَّهُ وَأَبَاهُ الْجَنَّةَ۔ ابو حسان کہتے ہیں: میرے دو بیٹے فوت ہو گئے، پس میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی ایسی حدیث بیان کرو جو ہمارے نفسوں کو ہمارے مردوں کے بارے میں خوش کر دے، انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (مومنوں کے) چھوٹے بچے جنت کے کیڑے ہوں گے (یعنی بے روک ٹوک جنت میں آتے جاتے رہیں گے)۔ ایسا بچہ اپنے باپ یا اپنے والدین سے ملاقات کرے گا، اس کا ہاتھ پکڑ لے گا، جس طرح میں نے تیرے کپڑے کا کنارہ پکڑ لیا ہے، اور اسے نہیں چھوڑے گا، حتی کہ اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے باپ دونوں کو جنت میں داخل کر دے گا۔