الفتح الربانی
— صبر
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَوْتِ الْأَوْلَادِ وثَوَابِ ذَلِكَ باب: بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ قُلْتُ مَاتَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَدَانِ فِي الْإِسْلَامِ فَقَالَ مَنْ مَاتَ لَهُ وَلَدَانِ فِي الْإِسْلَامِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمَا فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ لَقِيَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَقَالَ أَنْتَ الَّذِي قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ فِي الْوَلَدَيْنِ مَا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَقَالَ لَأَنْ يَكُونَ قَالَهُ لَهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا غُلِّقَتْ عَلَيْهِ حِمْصُ وَفِلَسْطِينُ۔ سیدنا ابو ثعلبہ اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے دو بچے اسلام میں فوت ہو چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے دو بچے اسلام میں فوت ہو جائیں، اللہ تعالیٰ ان بچوں پر رحمت کرنے کی وجہ سے اس شخص کو بھی جنت میں داخل کر دے گا۔ بعد میں جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مجھے ملے تو انھوں نے مجھ سے کہا: تم وہ آدمی ہو، جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے والدین کے بارے میں خوشخبری سنائی تھی؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات میرے لیے فرماتے تو یہ بات مجھے ان چیزوں سے زیادہ پسند ہوتی، جن پر حمص اور فلسطین کو بند کیا گیا۔