الفتح الربانی
— صبر
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَوْتِ الْأَوْلَادِ وثَوَابِ ذَلِكَ باب: بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ لَهُ فَرَطَانِ مِنْ أُمَّتِي دَخَلَ الْجَنَّةَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِأَبِي فَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ فَقَالَ وَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ يَا مُوَفَّقَةُ قَالَتْ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ قَالَ فَأَنَا فَرَطُ أُمَّتِي لَمْ يُصَابُوا بِمِثْلِي۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے جس شخص کے دو پیش رو ہوں گے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے باپ کی قسم! جس کا ایک پیش رو ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ جس کا ایک پیش رو ہو گا، اے توفیق دی ہوئی خاتون! پھر سیدہ نے کہا: آپ کی امت میں سے جس کا کوئی پیش رو نہیں ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس میں اپنی امت کے لیے پیش رو ہوں گا، میری امت کو میری جیسی تکلیف نہیں پہنچی۔