حدیث نمبر: 9404
عَنْ أَبِي سِنَانٍ قَالَ دَفَنْتُ ابْنًا لِي وَإِنِّي لَفِي الْقَبْرِ إِذْ أَخَذَ بِيَدِي أَبُو طَلْحَةَ فَأَخْرَجَنِي فَقَالَ أَلَا أُبَشِّرُكَ قُلْتُ بَلَى قَالَ حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى يَا مَلَكَ الْمَوْتِ قَبَضْتَ وَلَدَ عَبْدِي قَبَضْتَ قُرَّةَ عَيْنِهِ وَثَمَرَةَ فُؤَادِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَمَا قَالَ قَالَ حَمِدَكَ وَاسْتَرْجَعَ قَالَ ابْنُوا لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَسَمُّوهُ بَيْتَ الْحَمْدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو سنان کہتے ہیں: میں نے اپنا بیٹا دفن کیا اور ابھی تک میں قبر میں تھا کہ ابو طلحہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے قبر سے نکالا اور کہا: کیا میں تجھے خوشخبری دوں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: ضحاک بن عبد الرحمن نے سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ملک الموت! کیا تو نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کر لی ہے؟ کیا تو نے اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور اس کے دل کی محبت قبض کر لی ہے؟ وہ کہتا ہے: جی ہاں، اللہ تعالیٰ کہتا ہے: تو پھر میرے بندے نے کیا کہا؟ اس نے کہا: تیری تعریف بیان کی اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا، اللہ تعالیٰ نے کہا: تو پھر اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دو اور اس کا نام بَیْتُ الْحَمْد رکھو۔

وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ آزمائش والی خبر سنتے وقت یہ دعا پڑھنی چاہیے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
ابن حصبہ یا ابو حصبہ ایک ایسے صحابی سے بیان کرتے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطاب کے وقت موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ رَقُوْب (بے اولاد) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کی اولاد نہیں ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر رَقُوْب ہے، وہ سارے کا سارا رَقُوْب ہے، بس وہی رَقُوْب ہے کہ جو اس حال میں مرتا ہے کہ اس کی اولاد تو ہوتی ہے، لیکن اس نے کوئی بچہ آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تم یہ جانتے ہو کہ صُعْلُوْک (غریب و نادار) کون ہوتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جس کے پاس مال نہیں ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مکمل طور پر صُعْلُوْک ہے، وہ سارے کا سارا صُعْلُوْک ہے، بس وہی صُعْلُوْک ہے، جو مالدار ہونے کے باوجود اس حال میں مر جاتا ہے کہ اس نے کوئی مال آگے نہیں بھیجا ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتم جانتے ہو کہ بڑا پہلوان کون ہے؟ انھوں نے کہا: پچھاڑنے والا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارے کا سارے پہلوان، بڑے سے بڑاپہلوان وہ آدمی ہے جسے غصہ آتا ہے، پھر اس کا غصہ سخت ہو جاتا ہے، چہرہ سرخ ہونے لگتا ہے اور رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں، لیکن وہ اپنے غصے پر قابو پا لیتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9404
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 1021، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19725 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19963»