الفتح الربانی
— صبر
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَوْتِ الْأَوْلَادِ وثَوَابِ ذَلِكَ باب: بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
عَنْ مُحَمَّدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَتْنَا امْرَأَةٌ كَانَتْ تَأْتِينَا يُقَالُ لَهَا مَاوِيَّةُ كَانَتْ تُرْزَأُ فِي وَلَدِهَا فَأَتَتْ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْمَرٍ الْقُرَشِيَّ وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يُبْقِيَهُ لِي فَقَدْ مَاتَ لِي قَبْلَهُ ثَلَاثَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمُنْذُ أَسْلَمْتِ فَقَالَتْ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جُنَّةٌ حَصِينَةٌ قَالَتْ مَاوِيَّةُ قَالَ لِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْمَرٍ اسْمَعِي يَا مَاوِيَّةُ قَالَ مُحَمَّدٌ (يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ) فَخَرَجَتْ مَاوِيَّةُ مِنْ عِنْدِ ابْنِ مَعْمَرٍ فَأَتَتْنَا فَحَدَّثَتْنَا هَذَا الْحَدِيثَ۔ محمد بن سیرین کہتے ہیں: ہمارے پاس ماویہ نامی ایک خاتون آتی تھی، اس کے بچے فوت ہو جاتے تھے، وہ عبید اللہ بن معمر قریشی کے پاس گئی، جبکہ ان کے پاس ایک صحابی ٔ رسول بھی بیٹھے ہوئے تھے، اس صحابی نے بیان کیا کہ ایک خاتون اپنا ایک بیٹا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ اس کو زندہ سلامت رکھے ، اس سے پہلے میرے تین بچے فوت ہو چکے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’جب سے اسلام قبول کیا ، اس وقت سے تین بچے فوت ہوئے ہیں؟ ‘‘اس نے کہا : جی ہاں ! اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ یہ تو ( آگ سے بچنے کا ) بڑا مستحکم ذریعہ حفاظت ہے۔ ‘‘ ماویہ کہتی ہیں : مجھے عبیداللہ بن معمر نے کہا : اے ماویہ بات اچھی طرح سن (اوراس پر عمل کرتے ہوئے صبر سے کام لے اور اللہ سے ڈرتی رہ ) محمد بن سیرین کہتے ہیں : یہ عورت (ماویہ ) ابن معمر کےپاس سے نکلی اور ہمارے پاس آئی اور ہمیں یہ حدیث بیان کی ۔