الفتح الربانی
— صبر
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى مَوْتِ الْأَوْلَادِ وثَوَابِ ذَلِكَ باب: بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثِ بْنِ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيِّ قَالَ سَمِعْتُ طَلْقَ بْنَ مُعَاوِيَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لَهُ فَقَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَةً فَقَالَ لَقَدِ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ قَالَ حَفْصٌ سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ سِتِّينَ سَنَةً وَلَمْ أَبْلُغْ عَشَرَ سِنِينَ وَسَمِعْتُ حَفْصًا يَذْكُرُ هَذَا الْكَلَامَ سَنَةَ سَبْعٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَةٍ۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت اپنا بچہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دو، پہلے تین بچوں کو دفن کر چکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تو پھر آگ سے بڑی زبردست رکاوٹ بنا چکی ہے۔ حفص راوی کہتے ہیں: ساٹھ سال ہو گئے ہیں کہ میں نے یہ حدیث ِ مبارکہ سنی تھی، جبکہ اس وقت میری عمر دس برس بھی نہیں تھی۔ علی بن عبد اللہ راوی کہتے ہیں: میں نے ۲۸۷ھـمیں حفص کو یہ بات کرتے ہوئے سنا تھا۔