حدیث نمبر: 9397
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا كَانُوا لَهُ حِصْنًا حَصِينًا مِنَ النَّارِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنْ كَانَا اثْنَيْنِ قَالَ وَإِنْ كَانَا اثْنَيْنِ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أُقَدِّمْ إِلَّا اثْنَيْنِ قَالَ وَإِنْ كَانَا اثْنَيْنِ قَالَ فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ أَبُو الْمُنْذِرِ سَيِّدُ الْقُرَّاءِ لَمْ أُقَدِّمْ إِلَّا وَاحِدًا قَالَ فَقِيلَ لَهُ وَإِنْ كَانَ وَاحِدًا فَقَالَ إِنَّمَا ذَاكَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو وہ ان کے لیے جہنم سے مضبوط قلعہ ہوں گے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دو بچے ہوں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے تو صرف دو ہی بھیجے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ دو ہوں۔ سید القراء ابو المنذر سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا تو صرف ایک بچہ فوت ہوا ہے؟ ان کوجواباً کہا گیا: اگرچہ ایک بچہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اجر صرف اس وقت ملتا ہے، جب صدمہ کے شروع میں صبر کیا جائے۔

وضاحت:
فوائد: … جونہی آدمی غم والی خبر سنتا ہے، اسی وقت سے یہ حکم جاری ہوتا ہے کہ وہ صبر کرے، نوحہ نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی کوئی بات نہ کہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9397
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف بھذه السياقة، فيه ضعف وانقطاع، محمد بن ابي محمد لايعرف، وابوعبيدة بن عبد الله لم يسمع من ابيه عبد الله بن مسعود رضي الله عنه ، أخرجه الترمذي: 1061، وابن ماجه: 1606، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3554 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3554»