حدیث نمبر: 9393
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلَاثَةٌ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ مِنَ الْوَلَدِ) لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ يَعْنِي الْوُرُودَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں تو اس کو آگ نہیں چھوئے گی، سوائے قسم کے پورا کرنے کے۔ قسم کے پورا کرنے سے مراد وہاں سے گزرنا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … قسم کے پورا ہونے سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: {وَ إِنْ مِنْکُمْ إِلاَّ وَارِدُھَا کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا۔} … تم میں سے ہر ایک وہاں ضرور وارد ہونے والا ہے، یہ تیرے پروردگار کے ذمے قطعی، فیصل شدہ امر ہے۔ (سورۂ مریم: ۷۱)
اس کی تفسیر صحیح احادیث میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ جہنم کے اوپر ایک پل بنایا جائے گا، جس سے ہر مومن اور کافر کو گزرنا ہو گا، بعض مومن جلد یا بہ دیر گزر جائیں گے، بعض جہنم میں گر جائیں گے، پھر ان کو شفاعت کے ذریعےیا جرم کی سزا بھگتنے کے بعد نکال لیا جائے گا اور کافر اور مشرک اس پل سے نہیں گزر پائیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں گر جائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9393
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2632، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7721 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7707»