حدیث نمبر: 9391
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنَةٌ لِي كَذَا وَكَذَا وَذَكَرَتْ مِنْ حُسْنِهَا وَجَمَالِهَا فَآثَرْتُكَ بِهَا فَقَالَ قَدْ قَبِلْتُهَا فَلَمْ تَزَلْ تَمْدَحُهَا حَتَّى ذَكَرَتْ أَنَّهَا لَمْ تَصْدَعْ وَلَمْ تَشْتَكِ شَيْئًا قَطُّ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِي ابْنَتِكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری اس طرح کی بیٹی ہے، اس نے اپنی بیٹی کے حسن و جمال کا ذکر کیا، میں آپ کو اس کے لیے ترجیح دیتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس کو بطورِ بیوی قبول کر لیا ہے۔ پھر وہ اس کی مدح سرائی کرتی رہی،یہاں تک کہ یہ بھی کہہ دیا کہ اس کو کبھی سر درد نہیں ہوا، بلکہ وہ کبھی کسی بیماری میں مبتلا نہیں ہوئی،یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے تیری بیٹی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9391
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، سنان بن ربيعة ضعفه ابن معين، أخرجه ابويعلي: 4234 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12580 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12608»