حدیث نمبر: 9389
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا ابْتَلَى اللَّهُ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ قَالَ اللَّهُ اكْتُبْ لَهُ صَالِحَ عَمَلِهِ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُهُ فَإِنْ شَفَاهُ غَسَلَهُ وَطَهَّرَهُ وَإِنْ قَبَضَهُ غَفَرَ لَهُ وَرَحِمَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ کسی مسلمان بندے کو اس کی جسمانی تکلیف کے ساتھ آزماتا ہے تو وہ فرشتے سے کہتا ہے: یہ آدمی جو نیک عمل کرتا تھا، تو اس کو لکھتا جا، اگر اس کو شفا دے دی تو وہ اس کو دھودے گا اور پاک کردے گا اور اگر اس کو وفات دے دی تو بخش دے گا اور رحم کرے گا۔

وضاحت:
فوائد: … بیمار ہونے سے جہاں مختلف قسم کی آزمائشوں اور بیماریوں سے بندوں کو صبر آزما ساعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہاں ان کو اجرو ثواب ملتا ہے، گناہوں کے اثرات زائل ہوتے ہیں اور درجات بلند ہوتے ہیں۔
یہ بھی اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے کہ جب بندہ بیماری کی وجہ سے وہ نفلی عبادات برقرار نہیں رکھ سکتا، جو وہ صحت و تندرستی کے زمانے میں سرانجام دیتا تھا، یا فرضی عبادات کو ان کی اصل کیفیت میں ادا نہیں کر سکتا، مثلا بیٹھ کر نماز ادا کرنا، تو اللہ تعالیٰ اس کی عبادات کے اجر و ثواب میں کمی نہیں آنے دیتا، بلکہ اس کی نیت اور ارادے کو دیکھ کر اس کے نامۂ اعمال میں اس کے عبادت والے سلسلے کا انداراج ہوتا رہتا ہے، حالانکہ وہ عملی طور پر عمل کرنے سے عاجز ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9389
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 233، وابويعلي: 4233 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12503 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12531»