حدیث نمبر: 9374
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَاهُ عَائِدًا فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لِأَبِيهِ بَعْدَ أَنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ بِالصِّحَّةِ لَا بِالْوَجْعِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَقُولُ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((مَا يَزَالُ الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ بِهِ الْمَلِيلَةُ وَالصُّدَاعُ وَإِنَّ عَلَيْهِ مِنَ الْخَطَايَا لَأَعْظَمَ مِنْ أُحُدٍ حَتَّى يَتْرُكَهُ وَمَا عَلَيْهِ مِنَ الْخَطَايَا مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ معاذ بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے آئے اور جب انھوں نے ان کو سلام کہا تو انھوں نے کہا: صحت کے ساتھ رہو، نہ کہ بیماری کے ساتھ، تین بار یہ دعا کی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: مسلمان بخار اور سردردی جیسے بیماریوں میں مبتلا رہتا ہے، جبکہ اس پر احد پہاڑ سے بڑے بڑے گناہ ہوتے ہیں، لیکن ان بیماریوں کی وجہ سے اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں کہ اس پر رائی کے دانے کے برابر بھی گناہ نہیں رہتا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9374
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده مسلسل بالضعفائ، ابن لھيعة سييء الحفظ، وزبان بن فائد وسھل ضعيفان، أخرجه الطبراني في الاوسط : 3142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21736 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22079»