حدیث نمبر: 9373
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَتَى عَهْدُكَ بِأُمِّ مِلْدَمٍ وَهُوَ حَرٌّ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ قَالَ إِنَّ ذَلِكَ لَوَجَعٌ مَا أَصَابَنِي قَطُّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْخَامَةِ تَحْمَرُّ مَرَّةً وَتَصْفَرُّ أُخْرَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: تجھے بخار ہوئے کتنا عرصہ ہو چکا ہے؟ یہ جلد اور گوشت کے درمیان حرارت کی زیادتی ہوتی ہے، اس نے کہا: یہ ایسی تکلیف ہے کہ میں کبھی بھی اس میں مبتلا نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال اس نرم و نازک، تروتازہ کھیتی کی مانند ہے جو کبھی سرخ ہوتی ہے اور کبھی زرد۔

وضاحت:
فوائد: … اَلْدَمَ یُلْدِمُ: کا معنی کسی کو ہمیشہ بخار رہنے کا ہے۔ اور اُمِّ مِلْدَم بخار کی کنیت ہے، مزید دیکھیں حدیث نمبر (۹۳۹۰)
بخار،جسم کی زیادتی ٔ حرارت کی ایک صورت ہوتی ہے۔
جو کبھی سرخ ہوتی ہے اور کبھی زرد۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مسلمان مختلف کیفیتوں سے گزرتا رہتا ہے، کبھی صحت کا زمانہ، کبھی ایک بیماری میں مبتلا، کبھی کسی پریشانی میں مبتلا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9373
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الرجل الذي حدث عنه اسماعيل بن امية، ولابھام ام ولد ابي بن كعب ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21282 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21606»