حدیث نمبر: 9369
عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَاحَ إِلَى مَسْجِدِ دِمَشْقَ وَهَجَّرَ بِالرَّوَاحِ فَلَقِيَ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَالصُّنَابِحِيَّ مَعَهُ فَقُلْتُ أَيْنَ تُرِيدَانِ يَرْحَمُكُمَا اللَّهُ قَالَا نُرِيدُ هَاهُنَا إِلَى أَخٍ لَنَا مَرِيضٍ نَعُودُهُ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا حَتَّى دَخَلَا عَلَى ذَلِكَ الرَّجُلِ فَقَالَا لَهُ كَيْفَ أَصْبَحْتَ قَالَ أَصْبَحْتُ بِنِعْمَةٍ فَقَالَ لَهُ شَدَّادُ أَبْشِرْ بِكَفَّارَاتِ السَّيِّئَاتِ وَحَطِّ الْخَطَايَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنًا فَحَمِدَنِي عَلَى مَا ابْتَلَيْتُهُ فَإِنَّهُ يَقُومُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِكَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ مِنَ الْخَطَايَا وَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا قَيَّدْتُ عَبْدِي وَابْتَلَيْتُهُ فَأَجْرُوا لَهُ كَمَا كُنْتُمْ تُجْرُونَ لَهُ وَهُوَ صَحِيحٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو اشعث صنعانی کہتے ہیں: میں پہلے وقت میں یا دوپہر کے وقت مسجدِ دمشق کی طرف جا رہا تھا، سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہو گئی، جبکہ سیدنا صنابحی رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ تھے، میں نے کہا: اللہ تم پر رحم کرے، کہاں جا رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہم اِدھر ایک بیماربھائی کی تیمار داری کرنے کے لیے جا رہے ہیں، پس میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، یہاں تک کہ وہ اس بھائی کے پاس پہنچ گئے اور کہا: آپ نے کیسے صبح کی ہے؟ اس نے کہا: جی نعمت کے ساتھ صبح کی ہے، پھر سیدنا شداد رضی اللہ عنہ نے کہا: برائیوں کے معاف ہونے اور گناہوں کے مٹ جانے کے ساتھ خوش ہو جاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب میں اپنے کسی مؤمن بندے کو آزماتا ہوں اور وہ میری اس آزمائش پر تعریف کرتا ہے تو وہ اس دن کی طرح خطاؤں سے پاک ہو کر اپنے بستر سے کھڑا ہوتا ہے، جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا، پھر اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہیں: میں نے اپنے بندے کو مقید کر دیا ہے اور اس کو آزمایا ہے، لہٰذا فرشتو! تم اس کے وہ سارے اعمال لکھتے رہو، جو تم اس وقت لکھتے تھے، جب وہ صحت مند تھا۔

وضاحت:
فوائد: … مسلمان کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی عافیت کا سوال کرنا چاہیے، لیکن اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی آزمائش آ پڑے تو خندہ پیشانی کے ساتھ اس کو برداشت کرنا چاہیے، صبر کے تقاضے پورے کرنے چاہئیں اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کی تعریف کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9369
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير : 7136، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17118 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17248»