حدیث نمبر: 9362
عَنْ خَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ مُتَوَسِّدًا بُرْدَةً لَهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَنَا وَاسْتَنْصِرْهُ قَالَ فَاحْمَرَّ لَوْنُهُ أَوْ تَغَيَّرَ فَقَالَ لَقَدْ كَانَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يُحْفَرُ لَهُ حُفْرَةٌ وَيُجَاءُ بِالْمِنْشَارِ فَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُشَقُّ مَا يَصْرِفُهُ عَنْ دِينِهِ وَيُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ عَظْمٍ مِنْ لَحْمٍ أَوْ عَصَبٍ مَا يَصْرِفُهُ عَنْ دِينِهِ وَلَيُتِمَّنَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لَا يَخْشَى إِلَّا اللَّهَ تَعَالَى وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ وَلَكِنَّكُمْ تَعْجَلُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے سائے میں ایک چادر کو تکیہ بنا کر تشریف فرما تھے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا کریں اور اس سے مدد طلب کریں،یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ سرخ ہو گیایا تبدیل ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: البتہ تحقیق تم سے پہلے ایسے لوگ بھی تھے کہ ان کے لیے گڑھا کھودا گیا، پھر آری لائی گئی اور ان کے سروں پر رکھ کر ان کو چیر دیا گیا، لیکن یہ تکلیف بھی ان کو دین سے باز نہ رکھ سکی اور لوہے کی کنگھیوں سے لوگوں کی ہڈیوں اور پٹھوں سے گوشت نوچ لیا گیا، لیکن یہ چیز بھی ان کو دین سے نہ پھیر سکی، اور ضرور ضرور اللہ تعالیٰ اس دین کو اس طرح مکمل کرے گا کہ ایک سوار صنعاء سے یمن تک سفر کرے گا، لیکن اس کو صرف اللہ تعالیٰ کا ڈر ہو گا، یا اپنی بکریوں پر بھیڑئیے کا ڈر ہو گا، لیکن تم جلد بازی کر رہے ہو۔

وضاحت:
فوائد: … اللہ اکبر! اللہ ہمارے حالات پر رحم کرے اور ہمیں اپنی رحمت کا مستحق قرار دے، سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے کتنی اذیتوں کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دعا کی اپیل کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ جلد بازی کر رہے ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9362
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3852، ومسلم: ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21057 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21371»