الفتح الربانی
— صبر
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمَكَارِهِ مُطْلَقًا وَفَضْل ذلِكَ باب: ناپسندیدہ امور پر مطلق طور پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 9361
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّهُ يُشْرَكُ بِهِ وَيُجْعَلُ لَهُ الْوَلَدُ وَهُوَ يُعَافِيهِمْ وَيَدْفَعُ عَنْهُمْ وَيَرْزُقُهُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی نہیں ہے، جو سنی ہوئی تکلیف پر اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت زیادہ صبر کرنے والا ہو، بندہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے اور اس کے لیے اولاد کر دعویٰ کر دیتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ پھر بھی ان کو عافیت دیتا ہے، ان کا دفاع کرتا ہے اور ان کو رزق عطا کرتا ہے۔