الفتح الربانی
— صبر
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمَكَارِهِ مُطْلَقًا وَفَضْل ذلِكَ باب: ناپسندیدہ امور پر مطلق طور پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 9360
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يُصِيبُهُ وَصَبٌ وَلَا نَصَبٌ وَلَا حُزْنٌ وَلَا سَقَمٌ وَلَا أَذًى حَتَّى الْهَمُّ يُهِمُّهُ إِلَّا يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کو تکان، تھکاوٹ، غم، بیماری، تکلیف یا پریشان کر دینے والا کوئی غم لاحق ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان آزمائشوں کو اس کی برائیوں کا کفارہ بناتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … بیماری ایک غیر اختیاری چیز ہے، بندہ بغیر کسی ذاتی دخل کے اس میں مبتلا ہو جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہے۔
بیماریوں اور آزمائشوں کی وجہ سے تکلیف ضرور ہوتی ہے، لیکنیہ چیز تسلی بخش ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تکالیف کی وجہ سے خطائیں معاف کر دیتا ہے، لہٰذا شکوہ شکایت کئے بغیر اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے پر راضی ہو نا چاہئے۔
بیماریوں اور آزمائشوں کی وجہ سے تکلیف ضرور ہوتی ہے، لیکنیہ چیز تسلی بخش ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تکالیف کی وجہ سے خطائیں معاف کر دیتا ہے، لہٰذا شکوہ شکایت کئے بغیر اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے پر راضی ہو نا چاہئے۔