حدیث نمبر: 9357
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَثُرَتْ ذُنُوبُ الْعَبْدِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَا يُكَفِّرُهَا مِنَ الْعَمَلِ ابْتَلَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْحُزْنِ لِيُكَفِّرَهَا عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بندے کے گناہ زیادہ ہو جاتے ہیں، جبکہ اس کے پاس اس قدر اعمال نہیں ہوتے کہ جو اس کے گناہوں کا کفارہ بن سکیں، تو اللہ تعالیٰ اس کو غموں کے ذریعے آزمانا شروع کر دیتا ہے، یہاں تک کہ ان کے ذریعے اس کی برائیوں کو مٹا دیتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … صبر کی تین اقسام ہیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت پر صبر کرنا۔
۲۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی نہ کرنے پر صبر کرنا۔
۳۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے مصائب اور آزمائشوں پر صبر کرنا۔
اس معنی میں ہر نیکی کرنے اور ہر برائی سے بچنے کا سرچشمہ صبر ہے۔ اگر کوئی حقیقی صابر بن جائے تو اس پر تمام شرعی احکام کے تقاضے پورے کرناآسان ہو جاتے ہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَا رُزِقَ عَبْدٌ خَیْراً لَّہُ وَلَا أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ۔)) … بندے کو کوئی ایسی چیز عطا نہیں کی گئی جو اس کے لیے صبر کی بہ نسبت زیادہ بہتر اور وسعت والی ہو۔ (حاکم: ۲/ ۴۱۴، صحیحہ: ۴۴۸)
ان تمام احادیث ِ مبارکہ سے یہ سبق بھی ملا کہ آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی دلیل نہیں ہوتیں، بلکہ یہ امتحانات تو بلندیٔ درجات کا سبب بنتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9357
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم، أخرجه البزار: 3260 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25750»