حدیث نمبر: 9352
عَنْ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَجِبْتُ مِنْ أَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَ الْمُؤْمِنِ كُلَّهُ لَهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَلِكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ فَشَكَرَ كَانَ ذَلِكَ لَهُ خَيْرًا وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ فَصَبَرَ كَانَ ذَلِكَ لَهُ خَيْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے مؤمن کے معاملے پر تعجب ہے، بیشک اس کا سارے کا سارا معاملہ خیر پر مشتمل ہے اور یہ چیز صرف اور صرف مؤمن کو حاصل ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب اس کو خوشی ملتی ہے اور وہ شکر ادا کرتا ہے تو اس میں بھی اس کی بہتری ہے اور اگر اس کو کوئی تکلیف لاحق ہوتی ہے اور وہ صبر کرتا ہے تو اس میں بھی اس کے لیے بہتری ہے۔

وضاحت:
فوائد: … وہ مومن اس حدیث کا مصداق ہے جو اللہ تعال کے احسانات پر اس کا شکر ادا کرتاہے اور اس کی آزمائشوں پر صبر کے تمام تقاضے پورے کرتا ہے۔
اگر اللہ تعالیٰ مومن کے لیے کسی نعمت کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے اور اس کے حق میں عرش والے کی طرف سے کوئی صبرآزمافیصلہ کیا جاتا ہے تو وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھے اور دونوں حالتوںمیں اللہ تعالیٰ کے فیصلے سے غفلت نہ برتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9352
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2999، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18934 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19142»