عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَضَعَ رَجُلٌ يَدَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أُطِيقُ أَنْ أَضَعَ يَدِي عَلَيْكَ مِنْ شِدَّةِ حُمَّاكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ يُضَاعَفُ لَنَا الْبَلَاءُ كَمَا يُضَاعَفُ لَنَا الْأَجْرُ إِنْ كَانَ النَّبِيُّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يُبْتَلَى بِالْقُمَّلِ حَتَّى يَقْتُلَهُ وَإِنْ كَانَ النَّبِيُّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ لَيُبْتَلَى بِالْفَقْرِ حَتَّى يَأْخُذَ الْعَبَاءَةَ فَيَجُوبَهَا وَإِنْ كَانُوا لَيَفْرَحُونَ بِالْبَلَاءِ كَمَا تَفْرَحُونَ بِالرَّخَاءِ۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رکھا اور کہا: اللہ کی قسم! آپ کا بخار اس قدر تیز ہے کہ میں آپ پر ہاتھ رکھنے کی طاقت نہیں پاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم انبیاء کی جماعت ہیں، جیسے ہمارے لیے اجر و ثواب کو بڑھا دیا جاتا ہے، اس طرح ہمارے لیے آزمائشوں کو سخت کر دیتا ہے، انبیاء میں ایک ایسا نبی بھی تھا کہ اس کو جوؤں سے اس طرح آزمایا گیا کہ قریب تھا کہ وہ اس کو قتل کر دیں، ایسے نبی بھی تھے کہ جن کو فقر و فاقہ کے ذریعے اس طرح آزمایا گیا کہ وہ چوغہ لے کر اس کو کاٹتے تھے، اور وہ انبیاء آزمائشوں کی وجہ سے اس طرح خوش ہوتے تھے، جیسے تم خوشحالی کی وجہ سے خوش ہوتے ہو۔