حدیث نمبر: 9349
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَضَعَ رَجُلٌ يَدَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أُطِيقُ أَنْ أَضَعَ يَدِي عَلَيْكَ مِنْ شِدَّةِ حُمَّاكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ يُضَاعَفُ لَنَا الْبَلَاءُ كَمَا يُضَاعَفُ لَنَا الْأَجْرُ إِنْ كَانَ النَّبِيُّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يُبْتَلَى بِالْقُمَّلِ حَتَّى يَقْتُلَهُ وَإِنْ كَانَ النَّبِيُّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ لَيُبْتَلَى بِالْفَقْرِ حَتَّى يَأْخُذَ الْعَبَاءَةَ فَيَجُوبَهَا وَإِنْ كَانُوا لَيَفْرَحُونَ بِالْبَلَاءِ كَمَا تَفْرَحُونَ بِالرَّخَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رکھا اور کہا: اللہ کی قسم! آپ کا بخار اس قدر تیز ہے کہ میں آپ پر ہاتھ رکھنے کی طاقت نہیں پاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم انبیاء کی جماعت ہیں، جیسے ہمارے لیے اجر و ثواب کو بڑھا دیا جاتا ہے، اس طرح ہمارے لیے آزمائشوں کو سخت کر دیتا ہے، انبیاء میں ایک ایسا نبی بھی تھا کہ اس کو جوؤں سے اس طرح آزمایا گیا کہ قریب تھا کہ وہ اس کو قتل کر دیں، ایسے نبی بھی تھے کہ جن کو فقر و فاقہ کے ذریعے اس طرح آزمایا گیا کہ وہ چوغہ لے کر اس کو کاٹتے تھے، اور وہ انبیاء آزمائشوں کی وجہ سے اس طرح خوش ہوتے تھے، جیسے تم خوشحالی کی وجہ سے خوش ہوتے ہو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 9349
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن ابي سعيد، أخرجه ابن ماجه: 4024، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11893 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11915»