حدیث نمبر: 9341
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ جَاءَهُ ابْنُهُ عَامِرٌ فَقَالَ أَيْ بُنَيَّ أَفِي الْفِتْنَةِ تَأْمُرُنِي أَنْ أَكُونَ رَأْسًا لَا وَاللَّهِ حَتَّى أُعْطَى سَيْفًا إِنْ ضَرَبْتُ بِهِ مُؤْمِنًا انْبَاعَ عَنْهُ وَإِنْ ضَرَبْتُ بِهِ كَافِرًا قَتَلَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ التَّقِيَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا بیٹا ان کے پاس آیا اور انھوں نے اس سے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! کیا تو مجھے حکم دیتا ہے کہ میں فتنے کا سردار بن جاؤں، نہیں، اللہ کی قسم! نہیں،یہاں تک کہ مجھے ایسی تلوار دی جائے کہ اگر میں اس کو مومن پر چلاؤں تو وہ اس سے ہٹ جائے اور اگر کافر پر چلاؤں تو اس کو قتل کر دے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ غنی، گمنام اور متقی بندے کو پسند کرتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الفقر والغنى / حدیث: 9341
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1529»