حدیث نمبر: 9340
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَخَاهُ عُمَرَ انْطَلَقَ إِلَى سَعْدٍ فِي غَنَمٍ لَهُ خَارِجًا مِنَ الْمَدِينَةِ فَلَمَّا رَآهُ سَعْدٌ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا الرَّاكِبِ فَلَمَّا أَتَاهُ قَالَ يَا أَبَتِ أَرَضِيتَ أَنْ تَكُونَ أَعْرَابِيًّا فِي غَنَمِكَ وَالنَّاسُ يَتَنَازَعُونَ فِي الْمُلْكِ بِالْمَدِينَةِ فَضَرَبَ سَعْدٌ صَدْرَ عُمَرَ وَقَالَ اسْكُتْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِيَّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عامر بن سعد سے مروی ہے کہ ان کا بھائی عمر اپنے باپ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ مدینہ منورہ سے باہر اپنی بکریوں میں تھے، جب انھوں نے اس کو دیکھا تو کہا: میں اس سوار سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتا ہوں، جب وہ آیا تو کہا: ابو جان! کیا آپ اپنے بکریوں میں بدّو بن جانے پر راضی ہو گئے، لوگ تو مدینہ منورہ میں بادشاہت کے مسئلے پر لڑ رہے ہیں، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عمر کے سینے پر ہاتھ مارا اور کہا: خاموش ہو جا، بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ اس بندے سے محبت کرتا ہے، جو متقی، غنی اور گمنام ہو۔

وضاحت:
فوائد: … غنی سے مراد نفس کا غنی ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد وہ مالدار ہو، جس کے مال نے اس کو اللہ تعالیٰ سے غافل نہ کیا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الفقر والغنى / حدیث: 9340
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2965، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1441»