حدیث نمبر: 9337
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ أَبَاهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَشْعَثُ سَيِّئُ الْهَيْئَةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا لَكَ مَالٌ قَالَ مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ آتَانِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَنْعَمَ عَلَى عَبْدٍ نِعْمَةً أَحَبَّ أَنْ تُرَى عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) جب ابو الاحوص کا باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو وہ پراگندہ اور ردّی حالت میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے پاس مال نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر قسم کا مال عطا کیا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس بیشک جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر کوئی نعمت کرتا ہے تو وہ پسند کرتا ہے کہ اس پر اس نعمت کا اثر نظر آئے۔

وضاحت:
فوائد: … بندے کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا کیسے استعمال کرنا چاہیے، ملاحظہ ہوحدیث نمبر (۹۲۳۹)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الفقر والغنى / حدیث: 9337
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15987»