حدیث نمبر: 9336
عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ أَوْ شَمْلَتَانِ (وَفِي رِوَايَةٍ فَرَآنِي رَثَّ الْهَيْئَةِ) فَقَالَ لِي هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ قُلْتُ نَعَمْ قَدْ آتَانِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كُلِّ مَالِهِ مِنْ خَيْلِهِ وَإِبِلِهِ وَغَنَمِهِ وَرَقِيقِهِ فَقَالَ فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيَرَ عَلَيْكَ نِعْمَتَهُ (وَفِي رِوَايَةٍ فَلْيَرَ أَثَرَ نِعْمَتِهِ اللَّهُ عَلَيْكَ) فَرُحْتُ إِلَيْهِ فِي حُلَّةٍ (وَفِي رِوَايَةٍ فَغَدَوْتُ إِلَيْهِ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو الاحوص کے باپ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے ایکیا دو چادریں زیب ِ تن کی ہوئی تھیں، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پراگندہ حالت دیکھا اور پھر پوچھا: کیا تیرے پاس مال ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ نے مجھے گھوڑے، اونٹ، بھیڑ بکریاں اور غلام، ہر قسم کا مال دے رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے تجھے مال عطا کیا ہوا ہے تو پھر اس کو تجھ پر اس کی نعمت کا کوئی اثر بھی نظر آنا چاہیے۔ پھر جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا تو میں نے سرخ رنگ کی پوشاک پہنی ہوئی تھی۔

وضاحت:
فوائد: … خالص اور انتہائی سرخ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے، لہٰذا اس پوشاک کے سرخ ہونے سے مراد ہلکا سرخ ہے، یا وہ جس میں کسی اور رنگ کی ملاوٹ بھی ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الفقر والغنى / حدیث: 9336
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 4063، والنسائي: 8/ 180 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15892 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15982»