الفتح الربانی
مسائل الفقر والغنى— فقر اور غِنٰی کے مسائل
بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي الْغِنَی الصَّالِحِ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ باب: نیک آدمی کے لیے مناسب غِنٰی کی ترغیب کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ خُذْ عَلَيْكَ ثِيَابَكَ وَسِلَاحَكَ ثُمَّ ائْتِنِي فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ ثُمَّ طَأْطَأَ فَقَالَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ عَلَى جَيْشٍ فَيُسَلِّمَكَ اللَّهُ وَيُغْنِمَكَ وَأَرْغَبُ لَكَ مِنَ الْمَالِ رَغْبَةً صَالِحَةً قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَسْلَمْتُ مِنْ أَجْلِ الْمَالِ وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ وَأَنْ أَكُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عَمْرُو نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحُ لِلْمَرْءِ الصَّالِحِ۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا کہ اپنے کپڑے پہن کر اور اسلحہ لے کر میرے پاس پہنچو۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف اپنی نگاہ کو بلند کیا اور پھر جھکایا اور فرمایا: میں تجھے فلاں لشکر پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہوں، پس اللہ تعالیٰ تجھے سالم رکھے گااور غنیمت بھی عطا کرے گا اور میں تیرے لیے اچھے خاصے مال کی رغبت رکھتا ہوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں مال کی وجہ سے تو مسلمان نہیں ہوا، میں نے اسلام کی رغبت اور آپ کی صحبت میں رہنے کے لیے اسلام قبول کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمرو! نیک آدمی کے لیے مناسب مال بہترین چیز ہے۔