حدیث نمبر: 9332
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ خُذْ عَلَيْكَ ثِيَابَكَ وَسِلَاحَكَ ثُمَّ ائْتِنِي فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ ثُمَّ طَأْطَأَ فَقَالَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ عَلَى جَيْشٍ فَيُسَلِّمَكَ اللَّهُ وَيُغْنِمَكَ وَأَرْغَبُ لَكَ مِنَ الْمَالِ رَغْبَةً صَالِحَةً قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَسْلَمْتُ مِنْ أَجْلِ الْمَالِ وَلَكِنِّي أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْإِسْلَامِ وَأَنْ أَكُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عَمْرُو نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحُ لِلْمَرْءِ الصَّالِحِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا کہ اپنے کپڑے پہن کر اور اسلحہ لے کر میرے پاس پہنچو۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف اپنی نگاہ کو بلند کیا اور پھر جھکایا اور فرمایا: میں تجھے فلاں لشکر پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہوں، پس اللہ تعالیٰ تجھے سالم رکھے گااور غنیمت بھی عطا کرے گا اور میں تیرے لیے اچھے خاصے مال کی رغبت رکھتا ہوں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں مال کی وجہ سے تو مسلمان نہیں ہوا، میں نے اسلام کی رغبت اور آپ کی صحبت میں رہنے کے لیے اسلام قبول کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عمرو! نیک آدمی کے لیے مناسب مال بہترین چیز ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الفقر والغنى / حدیث: 9332
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابويعلي: 7336، وابن حبان: 3210، والطبراني في الاوسط : 3213، والحاكم: 2/ 236 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17763 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17915»