حدیث نمبر: 9331
عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ قَالَ كُنَّا فِي مَجْلِسٍ فَطَلَعَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى رَأْسِهِ أَثَرُ مَاءٍ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَرَاكَ طَيِّبَ النَّفْسِ قَالَ أَجَلْ قَالَ ثُمَّ خَاضَ الْقَوْمُ فِي ذِكْرِ الْغِنَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا بَأْسَ بِالْغِنَى لِمَنِ اتَّقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَالصِّحَّةُ لِمَنِ اتَّقَى اللَّهَ خَيْرٌ مِنَ الْغِنَى وَطَيِّبُ النَّفْسِ مِنَ النِّعَمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عبد اللہ بن خبیب کے چچے سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہمارے پاس تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر پانی کا اثر تھا، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ طیب النفس اور خوش گوار نظر آ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: جی ہاں۔ پھر لوگ غِنٰی کی باتوںمیں مصروف ہو گئے، جن کو سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کے لیے غِنٰی میں کوئی حرج نہیں ہے، جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو، البتہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے کے لیے غِنٰی کی بہ نسبت صحت بہتر ہے اور طیب النفس ہونا بھی نعمتوں میں سے ہے۔

وضاحت:
فوائد: … تقوی و پرہیزگاری کے بغیر مالداری ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ہے، ہر کوئی سرمایہ دار ہونے کو اعزاز اور کامیابی کی علامت سمجھتا ہے، لیکن اس کے تقاضے پورے کرنا بہت مشکل بات ہے۔
اسلام اور ہدایت جیسے عظیم احسانات کے بعد سب سے بڑی نعمت صحت ہے، باقی تمام نعمتیں اس کے تابع ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے رہنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الفقر والغنى / حدیث: 9331
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 2141 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23157 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23545»