الفتح الربانی
مسائل الفقر والغنى— فقر اور غِنٰی کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْفُقَرَاءِ الْمَسَاكِينِ والتَّرْغِيْبِ فِي حُبِّهِمْ وَمُجَالَسَتِهِمْ باب: فقراء مساکین کی فضیلت اور ان سے محبت کرنے اور ان کے ساتھ بیٹھنے کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 9326
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((قُمْتُ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ دَخَلَهَا الْمَسَاكِينُ وَإِذَا أَصْحَابُ الْجَدِّ)) وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ ((أَنَّ أَصْحَابَ الْجَدِّ مَحْبُوسُونَ إِلَّا أَصْحَابَ النَّارِ فَقَدْ أُمِرَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ وَقُمْتُ عَلَى بَابِ النَّارِ فَإِذَا عَامَّةُ مَنْ يَدْخُلُهَا النِّسَاءُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا، پس دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والوں میں عام لوگ مساکین تھے اور مرتبے والوں کو (جنت سے باہر) روک لیا گیا تھا، البتہ جہنمیوں کے بارے میں یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ ان کو جہنم میں لے جایا جائے، پھر میں آگ کے دروازے پر کھڑا ہوا اور دیکھا کہ اس میں داخل ہونے والوں میں سے عام خواتین تھیں۔