حدیث نمبر: 9324
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ يُصَلُّونَ وَيَصُومُونَ وَيَحُجُّونَ قَالَ ((وَأَنْتُمْ تَصُومُونَ وَتُصَلُّونَ وَتَحُجُّونَ)) قُلْتُ يَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ قَالَ ((وَأَنْتَ فِيكَ صَدَقَةٌ رَفْعُكَ الْعَظْمَ عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ وَهِدَايَتُكَ الطَّرِيقَ صَدَقَةٌ وَعَوْنُكَ الضَّعِيفَ بِفَضْلِ قُوَّتِكَ صَدَقَةٌ وَبَيَانُكَ عَنِ الْأَرْتَمِ صَدَقَةٌ وَمُبَاضَعَتُكَ امْرَأَتَكَ صَدَقَةٌ)) قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَأْتِي شَهْوَتَنَا وَنُؤْجَرُ قَالَ ((أَرَأَيْتَ لَوْ جَعَلْتَهُ فِي حَرَامٍ أَكَانَ تَأْثَمُ)) قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ((فَتَحْتَسِبُونَ بِالشَّرِّ وَلَا تَحْتَسِبُونَ بِالْخَيْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! غنی لوگ نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں اور حج کرتے ہیں، اس طرح وہ اجر میں آگے بڑھتے جا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بھی روزہ رکھتے ہو، نماز پڑھتے ہو اور حج کرتے ہو۔ میں نے کہا: جی وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کر سکتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری اندر بھی صدقہ کی صورتیں موجود ہیں، مثلا راستے سے ہڈی ہٹا دینا صدقہ ہے، راستے کی رہنمائی کر دینا صدقہ ہے، زائد طاقت کے ساتھ کمزور کی مدد کر دینا صدقہ ہے، واضح الفاظ ادا نہ کر سکنے والے کی طرف سے وضاحت کر دینا صدقہ ہے اور اپنی بیوی سے جماع کر لینے میں صدقہ ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ایسے ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی شہوت کو پورا کریں اوراس میں ہمارے لیے اجر بھی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتلا کہ اگر تو اس عضو خاص کو حرام کام پر لگا دے تو کیا تو گنہگار ہو گا؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تم شرّ سے بچ کر ثواب کی نیت کرتے ہو، اور کہ خیر والا کام کر کے ثواب کی نیت نہیں کرتے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الفقر والغنى / حدیث: 9324
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه البيھقي: 6/ 82، وفي الشعب : 7619، وأخرجه بنحوه الترمذي: 1956، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21363 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21690»