حدیث نمبر: 9318
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زَيْدٍ أَبِي الْحَوَارِيِّ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ((يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِمِائَةِ عَامٍ)) قَالَ فَقُلْتُ إِنَّ الْحَسَنَ يَذْكُرُ أَرْبَعِينَ عَامًا فَقَالَ عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((أَرْبَعُمِائَةِ عَامٍ)) قَالَ حَتَّى يَقُولَ الْغَنِيُّ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ عَيِّلًا قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِّهِمْ لَنَا بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ ((هُمُ الَّذِينَ إِذَا كَانَ مَكْرُوهٌ بُعِثُوا لَهُ وَإِذَا كَانَ مَغْنَمٌ بُعِثَ إِلَيْهِ سِوَاهُمْ وَهُمُ الَّذِينَ يُحْجَبُونَ عَنِ الْأَبْوَابِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ بعض صحابۂ کرام بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فقیر مؤمن جنت میں غنی مسلمانوں سے چار سو سال پہلے داخل ہوں گے۔ میں نے کہا: حسن تو چالیس برسوں کا ذکر کرتا ہے ؟ لیکن انھوں نے اصحاب ِ رسول کے حوالے سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو چار سو سال کی بات کی ہے، یہاں تک کہ غنی آدمی کہے گا: کاش میں بھی بہت زیادہ محتاج ہوتا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ان فقیروں کی صفات بیان کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں کہ جب جنگ کا موقع آتا ہے تو ان کو بھیجا جاتا ہے، لیکن جب غنیمت کی باری آتی ہے تو اوروں کوروانہ کیا جاتا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جن کو (وڈیروں کے) دروازوں سے دور کر دیا جاتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الفقر والغنى / حدیث: 9318
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف زيد ابي الحواري ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23103 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23491»