حدیث نمبر: 9317
عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ سَلْمَانَ وَصُهَيْبًا وَبِلَالًا كَانُوا قُعُودًا فِي أُنَاسٍ فَمَرَّ بِهِمْ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ فَقَالُوا مَا أَخَذَتْ سُيُوفُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْ عُنُقِ عَدُوِّ اللَّهِ مَأْخَذَهَا بَعْدُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَتَقُولُونَ هَذَا لِشَيْخِ قُرَيْشٍ وَسَيِّدِهَا قَالَ فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ((يَا أَبَا بَكْرٍ لَعَلَّكَ أَغْضَبْتَهُمْ فَلَئِنْ كُنْتَ أَغْضَبْتَهُمْ لَقَدْ أَغْضَبْتَ رَبَّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى)) فَرَجَعَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ أَيْ إِخْوَتَنَا لَعَلَّكُمْ غَضِبْتُمْ فَقَالُوا لَا يَا أَبَا بَكْرٍ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سلمان، سیدنا صہیب اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہم کچھ لوگوں میں بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سید نا ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا، اِن لوگوں نے کہا: اللہ کے دشمن کی گردن اتارنے میں اللہ کی تلواروں نے اپنا حق ادا نہیں کیا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم یہ بات قریش کے بزرگ اور سردار کے بارے میں کہتے ہو؟ (کچھ خیال کرو)۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ساری بات بتلائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! شاید تو نے ان کو ناراض کر دیا ہو اور اگر تو نے ان کو ناراض کر دیا تو تیرا ربّ بھی تجھ پر ناراض ہو جائے گا۔ یہ سن کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کی طرف لوٹے اور کہا: اے ہمارے بھائیو! شاید تم مجھ سے ناراض ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں، اے ابو بکر! اللہ تعالیٰ تجھ کو بخش دے۔

وضاحت:
فوائد: … غور کریں کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ جیسی عظیم ہستی کو فقیر صحابہ کے حقوق کے بارے میں متنبہ کیا جا رہا ہے، حالانکہ جو واقعہ پیش آیا، اس میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ حق بجانب تھے، کیونکہ سیدنا سلمان، سیدنا صہیب اور سیدنا بلال کے تبصرے کا مطلب یہ تھا کہ ابو سفیان کو مشرف باسلام ہونے سے پہلے قتل ہو جانا چاہیے تھا، جبکہ یہ تبصرہ اتنا مناسب نہیں تھا، کیونکہ اب سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ مسلمان ہو چکے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الفقر والغنى / حدیث: 9317
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2504 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20916»