الفتح الربانی
مسائل الفقر والغنى— فقر اور غِنٰی کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ باب: فقیر مہاجرین اور کمزور لوگوں کی فضیلت کا بیان
عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ سَلْمَانَ وَصُهَيْبًا وَبِلَالًا كَانُوا قُعُودًا فِي أُنَاسٍ فَمَرَّ بِهِمْ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ فَقَالُوا مَا أَخَذَتْ سُيُوفُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْ عُنُقِ عَدُوِّ اللَّهِ مَأْخَذَهَا بَعْدُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَتَقُولُونَ هَذَا لِشَيْخِ قُرَيْشٍ وَسَيِّدِهَا قَالَ فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ((يَا أَبَا بَكْرٍ لَعَلَّكَ أَغْضَبْتَهُمْ فَلَئِنْ كُنْتَ أَغْضَبْتَهُمْ لَقَدْ أَغْضَبْتَ رَبَّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى)) فَرَجَعَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ أَيْ إِخْوَتَنَا لَعَلَّكُمْ غَضِبْتُمْ فَقَالُوا لَا يَا أَبَا بَكْرٍ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ۔ سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا سلمان، سیدنا صہیب اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہم کچھ لوگوں میں بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سید نا ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا، اِن لوگوں نے کہا: اللہ کے دشمن کی گردن اتارنے میں اللہ کی تلواروں نے اپنا حق ادا نہیں کیا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم یہ بات قریش کے بزرگ اور سردار کے بارے میں کہتے ہو؟ (کچھ خیال کرو)۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ساری بات بتلائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! شاید تو نے ان کو ناراض کر دیا ہو اور اگر تو نے ان کو ناراض کر دیا تو تیرا ربّ بھی تجھ پر ناراض ہو جائے گا۔ یہ سن کر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کی طرف لوٹے اور کہا: اے ہمارے بھائیو! شاید تم مجھ سے ناراض ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں، اے ابو بکر! اللہ تعالیٰ تجھ کو بخش دے۔